الور،6؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فائر برانڈ لیڈر گیان دیو آہوجہ نے ایک بار پھر سے متنازعہ بیان دیا ہے- گیان دیو آہوجہ نے کہا ہے کہ مسلم سماج کے لوگ اب ہمارے بھائی نہیں رہے- اب ہندوؤں کو ’شاستر‘ کے ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا پڑے گا-
الور کے رام گڑھ تھانہ علاقے میں ایک12سالہ نابالغ سے آبروریزی کے معاملے میں گیان دیو آہوجہ متاثرہ سے ملنے پہنچے تھے- اس دوران انہوں نے25جولائی کو بہادر پور میں ہتھیار کے ساتھ ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے-اجتماعی آبروریزی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد گیان دیو آہوجہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندو تنظیموں کو شاستر کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا ہوگا، کیونکہ خاص مذہب کے لوگ ہماری ہندو بیٹیوں کے ساتھ آئے دن ظلم وزیادتی اور آبروریزی جیسے کام کر رہے ہیں -
انہوں نے کہا کہ متاثرہ کے والد کو مالی لالچ دے کر رضا مندی کا دباؤ بنایا گیا- نہیں ماننے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں - اس لئے اب ہمیں اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی اٹھانے ہوں گے-میڈیا سے بات کرتے ہوئے گیان دیو آہوجہ نے کہا کہ بہادر پور کے تحصیل پرگنہ میں 25جولائی کو لاٹھی جیلی ریلی نکالی جائے گی، جس میں ہندو تنظیموں کے10000 لوگ جمع ہوں گے- اس میں کسی بھی مسلمان کو نہیں آنے دیا جائے گا- اگر کوئی آئے گا تو اس کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیا جائے گا، کیونکہ اب یہ لوگ ہمارے بھائی نہیں رہے- یہ بھائی تب ہوتے جب لوگ ہماری بہن بیٹیوں کے ساتھ آبروریزی نہیں کرتے- یہ ہمارے بھائی تب ہیں، جب یہ لوگ ہماری مندروں کو نہ توڑیں - یہ ہمارے بھائی تب ہیں جب یہ ہندوؤں کا مذہب تبدیل نہ کرائیں - وہیں متاثرہ لڑکی نے عدالت سے آبروریزی کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے-
متاثرہ کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ میری بیٹی کے ساتھ آبروریزی کرنے والے لوگوں نے ہمیں 2دن تک رپورٹ درج نہیں کرانے دیا- پیسوں کا لالچ دیا گیا- ساتھ ہی نہ ماننے پر جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی گئی، جب ہم نہیں مانے اور رپورٹ درج کرا دی گئی تو اب دھمکیاں دی جارہی ہیں -